کس طرح ایک بحری قزاق خلافت عثمانیہ کا ایک عمدہ ایڈمرل بن گیا

 



جزیرہ لیسبوس جو اب یونان کا ایک حصہ ہے پندرہ ویں صدی میں ترکی کے زیر اقتدار رہا۔ یہ جزیرہ خلافت عثمانیہ کے ایک عظیم ترین ہیرو خیرالدین باربروسا کی جائے پیدائش ہے ، باربروسا کا نام اسے اس کی سرخ داڑھی کی وجہ سے دیا گیا تھا۔ خیرالدین کو "سمندر کابےتاج بادشاہ" بھی کہا جاتا ہے۔ لیکن وہ ہمیشہ سے ہی ایسے ہیرو نہیں تھا۔ اس نے ایک عام بحری قزاق کی حیثیت سےعملی زندگی کاآغاز کیا جو یورپی بحری جہازوں پر حملے کرتا تھا۔ لیکن ١٤٩٢ میں جب اسپین کے عیسائیوں نے مسلمانوں کی حکمرانی ختم کردی اور اسپین سے تعلق رکھنے والے مسلمان ہجرت کرکے شمالی افریقہ میں پناہ لینے لگےتو اسپین کے بحری بیڑے نے ان شہروں پر حملے کرنے شروع کردیئے ۔ اس کی خبر جب خیرالدین باربروسا کو ہوئی تو ان کا خون کھول اٹھاا اور انہوں نے اپنے بھائیوں کے ساتھ عثمانی خلیفہ کے حکم سے ہسپانوی بیڑے پر حملے شروع کر دیئے اور کچھ ہی وقت میں انھیں شکست سےدوچار کیا۔اس جیت سے عثمانی خلیفہ اتنے خوش ہوئے کہ انہیں امیر البحر بنادیاگیا-آنے والے سالوں میں باربروسا نے تیونس اور الجزائر جیسے بہت سے علاقوں پر قبضہ کیا اور خلافت عثمانیہ کو توسیع دی۔ لیکن باربوروسا کی سب سے مشہور فتح ١٥٣٨ء میں وینس ، جینوا ، اسپین ، پرتگال ، مالٹا اور پوپل ریاستوں کے مشترکہ بیڑے کے خلاف تھیں ۔ باربوروسا نےدشمن کےتین سو بحری جہازوں کے مقابلے میں صرف ١٢٢ چھوٹے بحری جہازاستعمال کئے اورمشترکہ قوت کو شکست دی۔ اس کی فتح نے طرابلس اور مشرقی بحیرہ روم میں عثمانی حکمرانی کا آغاز کردیا۔ ۔ اس عظیم فاتح کا انتقال ١٥٤٦میں ہوا اور استنبول میں انہیں دفن کیا گیا-ا


No comments:

Post a Comment