لیاقت علی خان کی موت کے بعد ایک سیاسی خلاء قائم ہوا ، اس خلا کو پُر کرنے کے لئے بہت سے لوگوں نے جدوجہد کی لیکن کوئی نہیں جانتا تھا کہ ایک مفلوج آدمی سب سے بڑھ کر سر اٹھا لے گا۔ یہ مفلوج آدمی کوئی اور نہیں بلکہ ملک غلام محمد تھے جو 1951 میں پاکستان کے گورنر جنرل بنے ۔ اگرچہ وہ ویل چیئر تک ہی محدود تھے لیکن وہ انتظامی طور پر کافی مضبوط آدمی تھے۔ قدرت اللہ شہاب جو اس وقت ان کے سکریٹری تھے وہ شہاب نامہ میں لکھتے ہیں کہ ملک غلام محمد اکثر اس وقت کے آرمی چیف ایوب خان کو اپنے دفتر بلایا کرتے اور ڈانٹ ڈپٹ کرتے تھے۔ 1955 میں ان کی طبیعت کی بیماری نے انہیں مستعفی ہونے پر مجبور کردیا اور وہ علاج کے لئے برطانیہ چلے گئے۔ 29 اگست 1956 کو ، ملک غلام محمد فوت ہوگئے اور وہ کراچی میں فوزی قبرستان کے ساتھ واقع ، کرسچن کے قبرستان ، گورا قبرستان میں دفن ہوئے۔ اور ان الفاظ کو حقیقت کاروپ دے گیے کہ پاکستان صرف پاکستانیوں کیلئے محض قبرستان ہے !!

No comments:
Post a Comment