وہ جس نے اپنے خون سے ستونوں کو رنگین کیا

1965 میں ہندوستانی فوج نے نارووال محاذ سے پاکستان پر حملہ کیا اور بھارتی ٹینکوں نے نارووال میں راوی پل کو عبور کرنا شروع کردیا ۔یہ ٹینک اگر پاکستانی آبادی میں گھس آتے تو بڑی تباہی کا اندیشہ تھا اس لئے پاکستانی فوجی انجینئروں نے انفلو کو کاٹنے کے لئے پل کو اڑانے کا فیصلہ کیا۔پل پر چونکہ بھارت کا قبضہ ھو چکا تھا اس لئے اب پل پر بم لگانا ممکن نہ تھا تو اس موقع پر  نائک عبد العزیز خود چیف ملٹری انجینئر کےپاس آیے اور پل کو اڑانے کی اجازت طلب کی. اجازت ملنے کے بعد انہوں نے اپنے جسم سے گرینڈ باندھے،دشمن کی نظروں سے بچھ کر پل کی طرف بھاگے اور اسے اڑا دیا. پل تو اڑا دیا گیا تھا اور سپلائی لائن بھی کاٹ دی گئی تھی لیکن نائک عبد العزیز نے اپنے خون سے راوی برج کے ستونوں کو  ہمیشہ ہمیشہ کیلئے رنگین کردیا۔ اڑا ہوا پُل اج بھی موجود ہے اور وقت وقت پر اسے لال رنگ سے رنگاجاتا ھے ، جو لوگوں کو اس عظیم ھیرو کی قربانی کی یاد دلاتا ہے. 

No comments:

Post a Comment